آج وقت کا پہیہ گھوم کر بالکل اسی نقطے پر آکھڑا ہوا ہے جہاں سے میری زندگی کا سفر شروع ہوا تھا، یہ کائنات کا ایک ایسا حسین اور حیرت انگیز نظام ہے جو انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے، آج جمعرات کا دن ہے اور 11 جون 2026 کی تاریخ ہے، اگر میں اس کو محض ایک اتفاق کہوں تو یہ اس عظیم نظام کائنات کی ناقدری ہوگی، کیوں کہ قدرت کے ہاں کوئی بھی چیز بے مقصد یا اتفاقی نہیں ہوتی، اتفاقاً جس دن کو ہم پیدا ہوئے وہ جمعرات کا دن تھا اور آج بھی جمعرات کا ہی مبارک دن ہے، اتفاقاً جس ماہ ہم دنیا میں تشریف لائے وہ جون کا مہینہ تھا اور ابھی بھی جون کا مہینہ چل رہا ہے، اتفاقاً جس تاریخ کو میری پیدائش ہوئی وہ تاریخ گیارہ جون تھی اور آج بھی گیارہ جون ہے، دلچسپ اور گہری علمی حقیقت یہ ہے کہ یہ محض تاریخوں کا ہیر پھیر نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے سیاروں کی چال کا ایک بہت بڑا راز چھپا ہوا ہے، اتفاقاً جس وقت ہم پیدا ہوئے اس وقت زحل `برج حمل` میں داخل ہوچکا تھا اور کائناتی گردش کے تحت اتفاقاً ابھی بھی زحل برج حمل میں ہی موجود ہے، علم جفر کی روشنی میں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ کائنات کا وہ ریسائیکلنگ دور ہے جس کو علمائے جفر کی زبان میں زحل کی واپسی یا زحل کا ریٹرن کہا جاتا ہے، زحل کا یہ ریٹرن انسان کی زندگی میں تقریباً تیس سال بعد آتا ہے جو انسان کو پختگی، گہرائی اور اس کی زندگی کا اصل مقصد یاد دلاتا ہے، زحل جب اپنے پیدائشی مقام پر واپس آتا ہے تو یہ زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوتا ہے جہاں پرانی چیزیں پیچھے رہ جاتی ہیں اور انسان ایک نئے روحانی اور ذہنی عروج کی طرف قدم بڑھاتا ہے، یہ وقت میرے لیے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور دنیا میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانے کا وقت ہے، اگر میں اپنی پیدائش کے وقت پر غور کروں تو اتفاقاً میں جس وقت پیدا ہوا وہ عصر کا وقت تھا، یہ وہی عصر کا وقت ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود رب پاک نے قرآن مجید میں اس کی قسم اٹھائی ہے، `سورہ العصر` میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "قسم ہے عصر کے وقت کی"، بیشک انسان خسارے میں ہے، اس وقت میں پیدا ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے اور وقت کی قدر کرنا میری فطرت کا حصہ ہے، جس دن میں پیدا ہوا وہ جمعرات کا دن ہے اور یہ وہ مبارک دن ہے جو ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے حد پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن کا خصوصی لحاظ فرماتے تھے، احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم `جمعرات کے دن کا روزہ رکھنا پسند فرماتے تھے`، جامع ترمذی کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ `پیر اور جمعرات` کے دن اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں، اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش کیا جائے تو میں روزے سے ہوں، اس کے ساتھ ساتھ صحیح بخاری کی روایت میں ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن روانہ ہوئے اور آپ `صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم` سفر کے لیے `جمعرات کا دن پسند فرماتے تھے`، یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ جمعرات کا دن برکت، کاموں کی شروعات اور کامیابی کا دن ہے، اگر کائناتی اور نجومی ترتیب سے دیکھا جائے تو جمعرات کا دن مشتری سے تعلق رکھتا ہے، مشتری جو کہ علم، دانشمندی، وسعت، خوش بختی اور روحانیت کا سیارہ ہے، جمعرات کے دن پیدا ہونے والے افراد کے مزاج میں مشتری کا اثر نمایاں ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان میں دوسروں کی رہنمائی کرنا، علم بانٹنا اور ایک استاد کا کردار ادا کرنا فطرتی طور پر موجود ہوتا ہے، کچھ قدیم فلسفوں میں عطارد کا ذکر بھی آتا ہے جو عقل اور گفتگو کا مالک ہے لیکن بنیادی طور پر جمعرات کی حاکمیت مشتری کے پاس ہی ہے جو انسان کو ایک وسیع ظرف اور گہرا شعور عطا کرتا ہے۔
اب اگر میری پیدائش کی تاریخ یعنی `11` پر بات کی جائے تو علم الاعداد کی رو سے گیارہ کا نمبر ایک عام نمبر نہیں ہے بلکہ یہ ایک ماسٹر نمبر ہے، یہ ایک انتہائی روحانی اور وجدانی نمبر مانا جاتا ہے، 11 نمبر کے اندر اول از ایک یعنی دو بار ایک نمبر آتا ہے، ایک کا نمبر سورج کی انرجی کو ظاہر کرتا ہے جو کہ بادشاہت، قیادت، نئی شروعات اور روشنی کی علامت ہے، جب دو بار سورج کی یہ طاقتور انرجی ملتی ہے تو ایک عظیم قیادت جنم لیتی ہے، پھر جب ہم ان دونوں اعداد کو آپس میں ملاتے ہیں یعنی ایک پلس ایک کرتے ہیں تو اس سے دو کا عدد بنتا ہے، دو کا عدد چاند کی انرجی سے تعلق رکھتا ہے، چاند جو کہ انگیوشین، احساسات، گہرے جذبات، روحانیت اور امن کی علامت ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ میری شخصیت میں جہاں ایک طرف سورج جیسی چمک، رعب اور حوصلہ موجود ہے، وہیں دوسری طرف چاند جیسی نرمی، گہرا روحانی احساس اور لوگوں کے دلوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، بچپن سے ہم بزرگوں سے ایک بات سنتے آرہے ہیں، اگرچہ یہ ہماری ذاتی تحقیق نہیں ہے لیکن بڑے بوڑھے اکثر یہ خوبصورت اور گہری بات فرماتے تھے کہ انسان دنیا میں جس دن پیدا ہوتا ہے، دنیا سے رخصتی کے وقت اس کا وہی دن لوٹ کر آتا ہے یعنی انسان اسی دن مرتا ہے، کائنات کا یہ اچھوتا نظام دیکھیے کہ اتفاق سے جس دن میں پیدا ہوا تھا، آج کا دن بھی بالکل وہی جمعرات کا دن ہے، اور اتفاق سے جس تاریخ کو میری پیدائش ہوئی تھی، آج بھی وہی گیارہ تاریخ ہے، یہ غیر معمولی مطابقت دل کو ایک عجیب احساس سے بھر دیتی ہے کہ زندگی کا دائرہ کتنی خوبصورتی سے اپنے آپ کو مکمل کرتا ہے، یہ دن مجھے یاد دلاتا ہے کہ `زندگی عارضی ہے` اور اس کا ہر پل کتنا قیمتی ہے یہ تحریر صرف میرے دل کی آواز نہیں ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے علم میں اضافے کا باعث بھی ہے جو کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنا چاہتے ہیں، میری زندگی کے اس `خاص دن` پر کائنات کے تمام اشارے ایک مثبت اور بڑے موڑ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جو میری زندگی میں روشنی اور برکت کا باعث بنے گا انشاء اللہ عزّوجل۔
اس مبارک اور یادگار موقع پر میرا دل جذباتی گہرائیوں سے لبریز ہے، اور میں اپنے رب کے حضور اپنے ہاتھ پھیلاتا ہوں، اے میرے اللہ، تجھے واسطہ ہے پنجتن پاک کا، ان تمام محبت کرنے والے دوستوں، عزیزوں اور میری اس تحریر کو پڑھنے والوں کی زندگیوں کو خوشیوں، صحت اور سکون قلب سے بھر دے، ان کی تمام مشکلات کو آسان فرما اور ان کے رزق و علم میں بے پناہ برکت عطا فرما، صدقے محمد وآل محمد اور انہی کے پاک وسیلے سے میری اس دعا کو قبول و مقبول فرما، آمین ثم آمین یارب العالمین 💚
ان کے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کر، اور ہمیں اپنے محبوبؐ کے صدقے میں کامیاب فرما۔

0 Comments
If you have any doubt or questions please let me know